CURIOUS-MINDS متجسس ذہن

Saturday, January 7, 2017

AITRAAZ : KYA QURAN ME 10 BAAR DHOOD CHUSNA UTRA HAI ( MASLA-RAZAAT)










کیا قرآن میں آیت رضاعت موجود تھی ؟

حضرت عائشہ ( رضی اللہ عنہ)سے مروی ایک حدیث جو کہ پانچ بار دودھ پلانے کے بارے میں ہے اس سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ آیات جو اس امر میں نازل ہوئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک پڑھی جاتی تھی پھر بعد میں ان آیات کو تاریخی قرآنی مسودات میں سے کسی میں نہیں پایا گیا۔
الحدیث” عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنْ الْقُرْآنِ
حضرت عائشہ سے منقول ہے کہ ”اللّٰه نے قرآن میں پہلے یہ نازل کیا تھا کہ دس رضعات سے حرمت ثابت ہوتی ہے۔ (دس بار دودھ پینے سے)۔ پھر اسے پانچ رضعات سے منسوخ کر دیا گیا۔ اور جب رسول اللّٰه کی وفات ہوئی تو یہ الفاظ قرآن میں قراءت کئے جا رہے تھے۔“( صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب التحریم بخمس رضاعت، حدیث: ۳۵۹۷)
اس روایت یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے یہ آیات آپ ﷺ کے بعد کھو گئی تھی۔ ہم اس روایت کا جائزہ لیتے ہیں ۔
خبر واحد اور قرآن : اگرچہ اس کے راوی قابل بھروسہ ہیں لیکن بات جب قرآن مجید کے متعلق ہوتوکسی چیز کے قرآن کا حصہ ہونے کے ثبوت کیلئے متواتر روایتوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔جبکہ موجودہ صورتحال میں ایسانھیں ھے۔اس حدیث کو اس انداز میں حضرت عائشہ ( رضی اللہ عنہ)سے صرف ایک راوی نے روایت کیا ہے ۔ امام نووی صحیح مسلم کی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں ۔”قرآن کے بارے کسی بات کو خبر واحد سے ثابت نہیں کیاجاسکتا”(شرح النووی183/5)۔
وہ الفاظ جوسب سے ذیادہ ہمارا دھیان کھینچتے ہیں یہ ہیں:” اور جب رسول اللّٰه کی وفات ہوئی تو یہ الفاظ قرآن میں قراءت کئے جا رہے تھے “۔
اگر ہم حضرت عائشہ ( رضی اللہ عنہ)سے مروی اس متعلق باقی روایتوں کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ صرف عبداللہ بن ابی بکر ہی نے ان الفاظ کا استعمال کیا۔جبکہ دوسرے راویوں قاسم بن محمد اور یحیی بن سعید نے یہی حدیث روایت کی اور اس میں ان الفاظ(جب آپﷺ کی وفات ہوئی ان آیات کی تلاوت کی جاتی تھی) کا کوئی ذکر نہیں کیا۔اورحقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں عبد الرحمان بن ابی بکر سے ذیادہ قابل بھروسہ اور مستند ہیں جیسا کہ امام طحاوی نے لکھا ہے ۔ دیکھیے (مشکل آثار 171/10)۔
اسی لیے محققین نے لکھا کہ یہ عبداللہ بن ابی بکر کا اپنا وہم ۔امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں”یہ بات ہمیں عبداللہ بن ابی بکر کے علاوہ کسی پتا نہیں چلتی اور ہمارے نزدیک یہ انکا اپنا وہم ہوسکتا ہے ۔ “( مشکل الاثار 5/73 حدیث 1740)۔
شیخ ابن عربی ؒ نے بھی اسے راوی کا وہم قرار دیا ہے۔ (Aardha al- Ahwazi 5/92)
درحقیقت پانچ بار دودھ والا حکم بھی منسوخ ہو گیا تھا:
اس بارے میں باقاعدہ ثبوت موجود ہیں کہ اس آیت(پانچ بار دودھ پلانے سے نکاح کا حرام ہونا) کی تلاوت اورحکم دونوں آپﷺ کی حیات طیبہ میں ہی منسوخ ہو گئے تھے۔
حضرت عائشہ ( رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے” لقد كان في كتاب الله عزوجل عشر رضعات ، ثم رد ذلك إلى خمس ، ولكن من كتاب الله ما قبض مع النبي صلى الله عليه وسلم
ترجمہ: دس رضعات سے حرمت ثابت ہونے کا ذکر قرآن میں موجود تھا پھر اسے پانچ سے بدل دیا گیا اور پھر کچھ نہیں تھا مگر وہ آپﷺ کی موجودگی میں منسوخ ہوگیا تھا ۔(مصنف عبدالرازق ،حدیث 13928)
شیخ تقی عثمانی لکھتے ہیں،” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بتاتی ہے کہ یہ پانچ رضعات والی آیت آپﷺ کی وفات سے پہلے ہی منسوخ ہو چکی تھی”(تکملہ فتح الملہم 46/1)۔
یہی سچ ہے کیونکہ ۔ حضرت عائشہ ( رضی اللہ تعالی عنہا ) کا وصال 57ھ میں ہوا جبکہ قرآن مجید کی سرکاری سطح پر تدوین اور نشر و اشاعت باقاعدہ اہتمام ان کے والد محترم اور خلیفۃ الرسول حضرت صدیق اکبر (رضی اللہ تعالی عنہ (م 13ھ)) نے فرمایا اور اس کے بعد حضرت عثمان غنی (رضی اللہ تعالی عنہ (م 35ھ)) کے عہد خلافت میں ایک دوسرے پہلو سے قرآن کی تدوین کا کام ہوا۔ یہ کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ انھوں نے ان دونوں مواقع پر ” تدوین قرآن کمیٹی ” کو اس آیت سے غافل ہی رکھا ہو؟ اور ہم جانتے ہیں کہ حضرت عائشہ ( رضی اللہ عنہ) کا قرآن و حدیث کے علم کے معاملے میں صحابہ میں بہت اونچا مقام تھا۔اور ہم یہ بھی جانتے ھیں کہ کچھ کافی مشہور قرآتیں آپ سے منسوب(مروی) ہیں اور ان میں سے کسی میں بھی ایسے الفاظ موجود نہیں ۔ یہی وجہ ھے کہ علماء کے نزدیک یہ الفاظ محض راوی کا گمان اور غلط فہمی ہے ۔
اگر یہ آیت موجود ہوتی تو اسکا علم ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی ہونا چاہیئے تھا اور قرآن مجید کا ایک اہم حکم ہونے کی وجہ سے اس کی شہرت عام ہونی چاہیئے تھی کیونکہ عرب میں بچوں کو عموماً دایہ دودہ پلاتی تھیں۔ اس اعتبار سے اس حکم کو عرب میں خصوصی اہمیت حاصل ہونی چاہیئے تھی اور ممکن نہ تھا کہ یہ آیت صرف حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالی عنہا ) تک ہی محدود رہتی۔ لیکن تدوین قرآن میں کسی نے اس آیت کا تذکرہ نہیں کیا ۔
درحقیقت یہ حکم بتدریج تبدیل ہوا۔پہلے دس باردودھ پینے پر نکاح کے حرام ہونے کا حکم تھا پھر اسے پانچ سے منسوخ کردیا گیا اور پھر زمانہ شیر خواری میں ایک باردودھ پینے سے بھی رضاعت ثابت ہونے کا حکم آگیا۔
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الرَّضَاعِ فَقُلْت : إنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلَا الرَّضْعَتَانِ قَالَ : قَدْ كَانَ ذَاكَ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَالرَّضْعَةُ الْوَاحِدَةُ تُحَرِّمُ۔
طاؤس نے ابن عباس سے روایت کی کہ “مجھ سے پستانوں سے دودھ پینے کے بارے دریافت کیا گیا، تو میں نے کہا کہ لوگ تو کہتے ھیں کہ ایک یا دو دفعہ کا پینا نکاح حرام نہیں کرتا، انہوں نے کہا پہلے ایسا تھا پر اب ایک بار سے ہی نکاح حرام ہو جائے گا(احکام القرآن 224/4)۔
مصنف عبدالرازق میں طاؤس(106 ہجری ،آپ تابعی ہیں اور حضرت عائشہ ( رضی اللہ عنہ) سمیت بہت سے صحابہ کے شاگرد ھیں ) سے روایت ہے ” كان لازواج النبي صلى الله عليه وسلم رضعات معلومات ، قال : ثم ترك ذلك بعد ، فكان قليله وكثيره يحرم
ترجمہ:” پیغمبر اکرم ﷺ کی بیویوں نے کہا کہ دودھ کاایک مخصوص تعداد(پانچ یا دس) تک پینا رضاعی رشتے(یعنی نکاح کو حرام) کو ثابت کرتا ہے ‘ انہوں نے مزید کہا کہ: ‘ تو یہ حکم کافی عرصہ رہا پھر بعد میں ایک بار سے ہی نکاح حرام ہو جانے کا حکم لاگو ہوا۔( مصنف عبدالرازق ،حدیث 13914)۔
حکم میں تبدیلی کیوں؟ حکم میں بتدریج تبدیلی کی حکمت یہ ہے کہ عرب میں اس وقت ایک دوسرے کے بچوں کو دودھ پلانا عام رواج تھا لیکن دوسری طرف اسکا شادیوں پر بھی اثر پڑنا تھا اس لیے حکم کو آہستہ آہستہ سخت کیا گیا تا کہ معاشرے میں تناو اور تکلیف سے بھی بچا جاسکے۔
خلاصہ : اس ساری بحث سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ بلا حدیث قرآن مجید کی صداقت پر کوئی استدلال نہیں کرتی۔اور یہ کہ دس اور پانچ بار دودھ پلانے پر نکاح کا حرام ھونا والی آیات حیات طیبہ ﷺ میں ہی منسوخ ہو گئی تھیں۔اب یا تو معترضین ہمارے قوانین کے مطابق روایات کی جانچ پڑتال کو مانیں یا انکی حقانیت کو غلط ثابت کرنے کی ہمت پیدا کریں۔ ( اس بحث سے مقصد یہ نہیں تھا کہ کتنی بار دودھ پلانے سے رضاعی رشتہ ثابت ھوتاہے بلکہ اس شک کو رفع کرنے کا تھا کہ آپﷺ کے بعد قرآن مجید میں کوئی تبدیلی نہین ہوئی ،مزید اس مسئلے کی تفصیل اور دلائل کے لیے دیکھئے (تکملہ فتح الملہم شرح صحیح مسلم از مفتی تقی عثمانی )


quran ki zabaan arabi jise zamana farsuda na kersaka

No automatic alt text available.



قرآن کی زبان عربی جسے زمانہ فرسودہ نا کرسکا
زبانیں ہمیں تہذیب کا سفر طے کراتی ہیں۔وہ اپنا آغاز ایک بالکل اجنبی اور نامانوس زبان کی حیثیت سے کرتی ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ،اور مختلف تہذیبوں کے ملتے جلتے رہنے کے باعث ایک بالکل ہی نئی اور شان دار حیثیت سے دنیا کے سامنے آتی ہیں۔ علم وادب کا ایک وسیع ذخیرہ اور الفاظ ومعانی کا ایک دریا ان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ دنیا کی کسی بھی زبان کو دیکھیں۔ وہ اس زبان سے قطعی مختلف ہوگی، جو اپنی ابتدا میں تھی، حتیٰ کہ اکثر اوقات اس ابتدائی زبان کو خود اس کے اپنے ماہرین بھی سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ فرانسیسی، لاطینی، انگریزی، اردو اور فارسی وغیرہ نے تاریخ کے سفر میں اَن گنت شکلیں بدلی ہیں اور تب جاکر وہ آج کی موجودہ شکل میں ہمارے سامنے آئی ہیں۔
 
اصولاً یہ معاملہ قرآن پاک کی عربی زبان کے ساتھ بھی پیش آنا چاہیے تھا۔ اسے بھی تبدیل ہوکر کچھ سے کچھ ہوجانا چاہیے تھا۔ قرآن پاک آج سے ۱۵سو سال قبل نازل ہوا تھا، چنانچہ اُس وقت کی عربی زبان ، آج کی اس اکیسویں صدی میں ہمارے لیے بالکل اجنبی ہونا چاہیے تھی۔ اگر فی الحقیقت ایسا ہوا ہوتا، تو قرآن پاک سے ہمارا رشتہ آج ٹوٹ چکا ہوتا اور دین اسلام ہمارے لیے اجنبیت اختیار کرجاتا۔بالکل اسی طرح جیسے انجیل اور تورات کی اصلی زبانیں آج کہیں موجود نہیں ہیں او ر یہ دونوں کتابیں اب ہمارے ہاں غیر مستند سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ قرآن پاک کی عربی آج بھی اپنے اندر حُسن، کشش،ادبی ذخیرہ اور زبان وبیان کا اعلیٰ مقام لیے ہوئے ہے۔ اس عربی کا کوئی بھی لفظ آج تک نہ متروک ہوسکا ہے اور نہ اس سے برتر کوئی اور لفظ سامنے آسکا ہے۔
 
جیسے جیسے اسلام کی اشاعت کرّۂ ارض پر ہوتی چلی گئی ، اسے اسی قدر نت نئی زبانوں سے سابقہ بھی پیش آتا رہا۔ جب اسلام یورپ، ایشیا اور افریقہ جیسے دیگر براعظموں کے اندر داخل ہوا تو عربی سے واقف کوئی ایک فرد بھی وہاں موجود نہ تھا۔ اسلام نے وہاں بعض علاقوں میں ۵۰۰سے۶۰۰برسوں سے زیادہ حکم رانی کی ہے ،مگر کسی جگہ کی کتنی ہی طاقت ور زبان، عربی زبان پر اثر انداز نہ ہوسکی۔ عراق، مصر ، ایران اور روم بڑی جان دار تہذیبوں کے مراکز تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی تہذیب عربی زبان کو مسخر نہ کرسکی، بلکہ اس کے برعکس الٹا عربی زبان ہی نے ان کی زبانوں میں بڑے بڑے ردّوبدل کردیے، حتیٰ کہ ان کی زبانیں اور طرز تحریر تک بدل کے رکھ دیے۔ جیسا کہ ہم اپنی مقامی سندھی زبان کو دیکھتے ہیں کہ سندھ کی عرب فتوحات کے بعد اس کا رسم الخط تبدیل ہوکر عربی ہوگیا۔
 
اس قرآنی زبان کو مٹانے کے لیے بڑی بڑی تدبیریں اختیار کی گئیں۔ ایرانی حکم رانوں نے عربی کے کتب خانوں کو جلایااور مدرسوں کو اجاڑدیا۔ انگریزوں اور فرانسیسیوں نے عربی زبان کے خلاف اپنی پوری قوت صَرف کردی اورتمام تعلیم انگریزی اور فرانسیسی زبان میں دینے لگے، لیکن اس کے باوجود تمام علاقوں میں عربی زبان بدستور اپنی اصل حالت میں موجود رہی ۔اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ قرآن پا ک ایک زندۂ جاوید کلام کی حیثیت سے سدا سے موجود چلا آرہا ہے۔
 
قبل اسلام، عرب میں اچھے شعر کی ایک تعریف یہ بھی رائج تھی کہ اس میں زیادہ سے زیادہ جھوٹ شامل ہونا چاہیے، اور اس جھوٹ میں شدید مبالغہ آرائی ہونی چاہیے۔ لیکن قرآن پاک نے سورۂ رحمن میں حقائق کا اتنا خوب صورت بیان کیا کہ اس سے زیادہ خوب صورت بیان ممکن نہیں تھا۔اسی وجہ سے اسے عروس القرآن(قرآن کی دلہن) کا خطاب دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پاک کی عربی نے عربوں کو نت نئے الفاظ ہی نہیں دیے بلکہ ان کے وسیع مفا ہیم بھی دیے جن سے پہلے وہ خود بھی ناآشنا تھے۔
 
زبانوں کی ترقی وتبدیلی میں اُدبا اور شعر ا کا سب سے زیادہ کردار ہوتا ہے۔ہر بڑا شاعر اور ادیب زبان کو نئے زاویے اور نئی حیات عطا کرتا ہے۔ زبانیں اسی طرح بدلتی ہیں، یہاں تک کہ دوتین صدیوں کے بعد اوّلین زبان کو لوگ شرحوں اور لغتوں کے بغیر سمجھ بھی نہیں پاتے!۔ اس کلیے میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ ہے عربی زبان کا استثنا۔ عربی آج بھی اسی آسانی اورفصاحت سے سمجھ میں آجاتی ہے، جیسی کہ وہ اپنے اوّلین دور میں سمجھی جاتی تھی۔ بے شک حالات کے حساب سے چند نئے الفاظ اور اصطلاحات بھی عربی میں رائج ہوئیں، لیکن قرآن کی عربی مبین پر وہ ہر گز اثر انداز نہ ہو سکیں۔
 
زندگی کے حقائق کو قرآن پاک نے اتنے فصیح وبلیغ عربی انداز میں بیان کیا ہے کہ دنیا میں کوئی شخص بھی اس سے بہتر زبان اور انداز میں انھیں بیان نہیں کرسکتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کے الفاظ میں معنی کے لحاظ سے بے حد وسعت ہوئی اور اس کے جدید ترین مطالب سامنے آئے ہیں۔ یقیناًمستقبل کی صدیوں میں ان کے مزید جدید مطالب سامنے آئیں گے جن کی مدد سے اس دور کا ماحول اوربھی بہتر انداز میں سمجھ میں آسکے گا۔ لیکن مطلب کی اس جدت نے عربی الفاظ اور اصطلاحوں کو متروک اور ناکارہ نہیں کیا،بلکہ آج بھی ان کی تازگی اور حُسن پہلے ہی کی طرح برقرار ہے۔ ابتدائی دور کا کوئی عرب زندہ ہوکر آج اگر عرب ممالک میں اپنی گفتگو کرے تو اس کی زبان صدیوں کے فاصلے کے باوجود اسی کے زمانے کے مطابق سمجھی اور سنی جائے گی۔
 
معروف انگریز مؤرخ فلپ کے حِتی اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں اعتراف کرتا ہے کہ’’ قرآن پاک کی عربی اتنی ہمہ گیر اور مکمل ہے کہ مختلف عربی لب ولہجے کے باوجود عربی زبان کے ٹکڑے نہیں ہوئے حالانکہ خود رومی زبان بھی بعد میں کئی حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی۔ بے شک ایک عراقی یمنی عربی کی زبان سمجھنے میں مشکل محسوس کرے گا لیکن وہ اسی کی لکھی ہوئی عربی کو بآسانی سمجھ لے گا‘‘ (ص ۱۲۷)۔
 
عالم اسلام کے ممتاز مفسر سید قطب شہیدؒ کہتے ہیں کہ جو ممالک اسلام کے لیے مفتوح ہوئے اور جہاں بہت سے غیر معمولی عصری علوم وفنون اُبھر کے سامنے آئے، وہ ان کی اپنی اور اصل قدیم زبانوں میں نہیں بلکہ اس نئی زبان، اس دین کی زبان، اسلامی زبان (عربی) میں سامنے آئے۔ ان نئے حقائق، نئے فنون ،اور نئے افکار کو پیش کرتے وقت یہ بات بالکل ظاہر نہ ہوتی تھی کہ یہ اجنبی زبان میں ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان علوم وفنون کے لیے عربی زبان گویا ان کی اپنی مادری زبان بن گئی تھی۔(فی ظلال القرآن،جلد سوم، ص۳۱۲)
 
تفسیر مذکورہ کے مترجم عالم دین سید حامد علیؒ اس تشریح کے ضمن میں مزید حیرت انگیز وضاحت کرتے ہیں کہ تفسیر ،فقہ، کلام، تصوف، فلسفہ، جغرافیہ، سائنس، عربی لغات اور تاریخ وغیرہ، تمام علوم وفنون میں چھوٹی بڑی بلکہ ضخیم مجلدات تصنیف کرنے والے لوگ ۹۰فی صد عجمی تھے اور انھوں نے یہ سارا کام عربی زبان میں اس طرح کیا تھا کہ گویا وہ ان کی اپنی ہی زبان ہو۔ یہی نہیں بلکہ اس دور میں پوری متمدن(ومہذب) دنیا کی علمی زبان عربی تھی۔(ایضاً ص۳۱۲)۔ یہ جو آج ہم ماضی کے مسلم مفکرین و سائنسدان، مثلاً ابنَ فرناس، ابنِ سینا، ابنِ بطوطہ، ابنِ خلدون اور علامہ ابنِ کثیر وغیرہ کے کارنامے سنتے اور پڑھتے ہیں ، وہ سب کے سب عرب خطوں کے باشندے بہرحال نہیں تھے ۔ لیکن انھوں نے اپنی کثیر تصنیفات کا بیش تر حصہ عربی زبان ہی میں تیا ر کیا تھا۔
 
اپنی اصل میں عربی زبان محض ایک زبا ن ہی ثابت نہیں ہوئی بلکہ وہ ایک تہذیب ساز عامل بھی بن کے سامنے آئی۔ دنیا کے جس خطے میں بھی وہ گئی ، اس نے وہاں جا کر ایک بالکل ہی نئی تہذیب کی بنیاد رکھ دی۔دنیا کی موجودہ عالمی زبانوں کی لغت میں آج لاتعداد الفاظ عربی کے پائے جاتے ہیں کیونکہ دنیا کے ایک تہائی خطے پر کبھی اسلام کا پرچم لہرایا کرتا تھا۔ astrolobe, stable, camel, sugar, zenith, lick, rim, وغیرہ جیسے الفاظ دراصل عربی الاصل ہی ہیں۔
ایک مغربی مفکر نے۱۸۹۰۰ء میں ایک بات کہی تھی کہ’’ عربی زبان کا نہ کوئی بچپن ہے نہ بڑھاپا۔ وہ اپنے ظہور کے پہلے دن جیسی تھی، ویسی ہی آج بھی ہے‘‘۔ گویا وہ شروع ہی سے ایک بالغ اور بھر پور زبان رہی ہے ۔واضح رہے کہ اس نے عربی کی یہ تعریف اٹھارھویں صدی کے آخری دور میں کی تھی ،جب کہ زمانہ آج اکیسویں صدی کا ہے۔
 
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں میں عربی زبان سے زیادہ کوئی اور زبان معجزاتی نہیں ہے اور نہ کسی اور زبان میں الفاظ کا اتنا ذخیرہ ہی موجود ہے جتنا عربی زبان میں ہے۔کیونکہ بعض اوقات صرف ایک اسم کے تعارف کے لیے اس میں ۵۰سے زیادہ الفاظ پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے اس کے بارے میں یہ کہنا بجا ہے کہ عربی وہ زبان ہے جسے وقت کی آندھیاں بوسیدہ نہ کر سکیں!
سید مودودیؒ کے بقول:
’’
۱۴۴سو برس گزرنے کے بعد بھی آج تک یہ کتاب اپنی زبان کے ادب کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے جس کے برابر تو درکنار، جس کے قریب بھی عربی زبان کی کوئی کتاب اپنی ادبی قدروقیمت میں نہیں پہنچتی۔ یہی نہیں، بلکہ یہ کتاب عربی زبان کو اس طرح پکڑ کر بیٹھ گئی ہے کہ ۱۴صدیاں گزر جانے پر بھی اِس زبان کا معیارِ فصاحت وہی ہے جو اس کتاب نے قائم کر دیا تھا، حالانکہ اتنی مدت میں زبانیں بدل کر کچھ سے کچھ ہو جاتی ہیں۔ دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں ہے جو اتنی طویل مدت تک املا، انشاء، محاورے، قواعدِزبان اور استعمالِ الفاظ میں ایک ہی شان پر باقی رہ گئی ہو۔ لیکن یہ صرف قرآن کی طاقت ہے جس نے عربی زبان کو اپنے مقام سے ہلنے نہ دیا۔ اُس کا ایک لفظ بھی آج تک متروک نہیں ہوا ہے۔ اُس کا ہر محاورہ آج تک عربی ادب میں مستعمل ہے۔ اُس کا ادب آج بھی عربی کا معیاری ادب ہے، اور تقریر و تحریر میں آج بھی فصیح زبان وہی مانی جاتی ہے جو ۱۴۰۰برس پہلے قرآن میں استعمال ہوئی تھی۔ کیا دنیا کی کسی زبان میں کوئی انسانی تصنیف اِس شان کی ہے؟‘‘(تفہیم القرآن، جلد۵، ص ۱۷۵۔۱۷۶)
 
استفادہ تحریر : رضی الدین سیّد

Thursday, October 6, 2016

zamin o asmaan ki takhliq 6 ya 8 din


اسلام پر اعتراضات کے جوابات۔ اعتراض 3
افلاک و ارض کی تخلیق چھ یا آٹھ روز میں؟
" قرآن کئی مقامات پر یہ بیان کرتا ہے کہ زمین و آسمان چھ دنوں میں پیدا کئے گئے، لیکن سورۃ فُصِلت ( حم السجدہ ) میں کہا گیا کہ زمین و آسمان 8 دنوں میں بنائے گئے، کیا یہ ایک تضاد نہیں؟ اسی آیت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زمین 6 دنوں میں پیدا کی گئی اور پھر اس کے بعد آسمان 2 دنوں میں پیدا کیئے گئے،"
مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ قرآن کے مطابق آسمان اور زمین 6 دنوں، یعنی چھ ادوار میں پیدا کئے گئے ۔ اس کا ذکر حسب ذیل سورتوں میں آیا ہے:
٭ سورۃ اعراف کی آیت 54
٭ سورۃ یونس کی آیت 3
٭ سورۃ ہود کی آیت 7
سورۃ فرقان کی آیت 59
٭ سورۃ سجدی کی آیت 4
٭ سورۃ ق کی آیت 38
٭ سورۃ حدید کی آیت 4
وہ آیاتِ قرآنی جو آپ کے خیال میں یہ کہتی ہیں کہ آسمان و زمین آٹھ دنوں میں پیدا کیے گئے ، وہ 41 ویں سورۃ فُصِلت ( حم السجدۃ ) کی آیاات: 9 تا 12 ہیں۔ ارشاد باری تعالٰی ہے ۔ :
قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الأرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ (٩)وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِنْ فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِلسَّائِلِينَ (١٠)ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلأرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ (١١)فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (١٢)
" ( اے نبی! ) ان سے کہیئے: کیا تم واقعی اس ذات سے انکار کرتے ہو اور دوسروں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا؟ وہ تو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس نے اس ( زمین ) میں اس کے اوپر پہاڑ جما دیئے، اور اس میں برکتیں رکھ دیں اور اس میں غذاؤں کا ( ٹھیک ) اندازہ رکھا۔ یہ ( کام ) چار دنوں میں ہوا، پوچھنے والوں کے لیے ٹھیک ( جواب ) ہے، پھروہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھواں تھا، اس نے اس (آسمان ) سے اور زمین سے کہا: وجود میں آجاؤ خواہ تم چاہو یا نہ چاہو، دونوں نے کہا: ہم آگئے، فرمانبردار ہوکر۔ تب اس نے دونوں کے اندر انہیں سات آسمان بنا دیا اور ہر آسمان میں اس کاکام الہام کردیا۔ اور آسمانِ دنیا کو ہم نے چراغوں ( ستاروں ) سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کردیا۔ یہ سب ایک بہت زبردست، خوب جاننے والے کی تدبیر ہے۔ "
( سورۃ فُصِلت ( حم السجدۃ ) 41 آیات 9 تا 12)
قرآن کریم کی ان آیات سے بظاہر یہ تاثر ملا ہے کہ آسمان اور زمین 8 دنوں میں پیدا کیے گئے۔
اللہ تعالی اس آیت کے شروع ہی میں فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو عبارت کے اس ٹکڑے میں موجود معلومات کو اس کی صداقت کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کے لیے غلط طور پر استعمال کرتے ہیں، درحقیقت وہ کفر پھیلانے میں دلچسپی رکھتے اور اس کی توحید کے منکر ہیں۔ اللہ تعالی اس کے ساتھ ہی ہمیں بتا رہا ہے کہ بعض کفار ایسے بھی ہوں گے جو اس ظاہری تضاد کو غلط طور پر استعمال کریں گے۔
" ثُم " سے مراد " مزید برآں "
اگر آپ توجہ اور احتیاط کے ساتھ ان آیات کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان میں زمین اور آسمان کی دو مختلف تخلیقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہاڑوں کو چھوڑ کر زمین دو دنوں میں پیدا کی گئی۔ اور 4 دنوں میں پہاڑوں کو زمین پر مضبوطی سے کھڑا کیا یگا اور زمین میں برکتیں رکھ دی گئیں اور نپے تلے انداز کے مطابق اس میں رزق مہیا کردیا گیا۔ لہذا آیات: 9 اور 10 کے مطابق پہاڑوں سمیت زمین 6 دنوں میں پیدا کی گئی، آیات: 11 اور 12 کہتی ہیں کہ مزید برآں دو دنوں میں آسمان پیدا کئے گئے ، گیارہویں آیت کے آغاز میں عربی کا لفظ " ثُم " استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب پھر یا مزید برآں ہے، قران کریم کے بعض تراجم میں " ثُم " کا مطلب پھر لکھا گیا ہے۔ اور اس سے بعد ازاں مراد لیا گیا ہے۔ اگر " ثُم " کا ترجمہ غلط طور پر " پھر " کیا جائے تو آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے کل ایام آٹھ قرار پائیں گے اور یہ بات دوسری قرآنی آیات سے متصادمم ہوگی جو یہ بتاتی ہے کہ آسمان و زمین چھ دنوں میں پیدا کیئے گئے ، علاوہ ازیں اس صورت میں یہ آیت قرآن کیرم کی سورۃ الانبیاء کی 30 ویں آیات سے بھی متصادم ہوگی جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ زمین و آسمان بیک وقت پیدا کئے گئے تھے۔
لہذا اس آیت میں لفظ " ثم " کا صحیح ترجمہ " مزید برآں " یا " اس کے ساتھ ساتھ " ہوگا۔
علامہ عبداللہ یوسف علی نے صحیح طور پر " ثؐم " کا ترجمہ " مزید برآں (Moeover) " کیا ہے جس سے واضح طور پر ییہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب پہاڑوں وغیرہ سمیت چھ دنوں مین زمین پیدا کی گئی تو بیک وقت اس کے ساتھ ہی دو دنوں میں آسمانن بھی پیدا کیئے گئے تھے، چنانچہ کل ایام تخلیق آٹھ نہیں چھ ہیں۔
فرض کیجیئے ایک معمات کہتا ہے کہ وہ 10 منزلہ عمارت اور اس کے گرد چار دیواری 6 ماہ میں تعمیر کردے گا اور اس منصوبے کی تکمیل کے بعد وہ اس کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ عمارت کا تہ خانہ 2 ماہ میں تعمیر کیا گیا اور دس منزلوں کی تعمیر نے 4 مہینے لیے اور جب بلڈنگ اور تہ خانہ بیک وقت تعمیر کیئے جاررہے تھے تو اس نے ان کے ساتھ ساتھ عمارت کی چار دیواری کی بھی تعمیر کردی جس میں دو ماہ لگے۔ اس میں پہلا اور دوسرا بیان باہم متصادم نہیں لیکن دوسرے بیان سے تعمیر کا تفصیلی حال معلوم ہوجاتا ہے۔
جیسا کہ اس مثال میں سرت من البصرة الی بغداد و سرت الی الکوفة فی خمسةعشر یوماً کہ میں نے بصرہ سے بغداد تک کی منزل کو دس روز میں تمام کیا اور کوفہ تک پندرہ دن میں تمام کیا، چونکہ متصل ایک ہی قسم کا سفر تھا اس لیے مجموعی مدت لگائی گئی زبان نہ جاننے سے ایسے شبہات پیدا ہوتے ہیں.

aitraaz : 2 mashriq 2 magrib

اسلام پر اعتراضات کے جوابات۔ اعتراض 4
کیا مشرق و مغرب دو دو ہیں ؟؟
" قرآن مجید کی ایک آیت میں یہ کہا گیا کہ اللہ دو مشرقوں اور مغربوں کا آقا و مالک ہے ۔ آپ کے نزدیک اس آیتِ قرآنی کی سائنسی تعبیر کیا ہے؟ "
قرآن کہتا ہے کہ اللہ دو مشرقوں اور دو مغربوں کا رب ہے، قرآن کریم کی وہ آیت جس میں یہ ذکر کیا گیا ہے وہ حسب ذیل ہے :
رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ (١٧)
"( وہی ) مشرقین ( دو مشرق ) اور مغربین ( دو مغرب ) کا رب ہے۔ "
( سورۃ الرحمن 55 آیت 17)
عربی متن میں مشرق و مغرب کے الفاظ تثنیہ کی شکل میں استعمال کیئ گئے ہیں۔ ان سے مراد یہ ہے کہ اللہ دو مشرقوں اور دو مغربوں کا رب ہے۔
مشرق و مغرب کی انتہا :
جغرافیے کی سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور لیکن اس کے طلوع ہونے کا مقام سارا سال تبدیل ہوتا رہتاہے۔ سال میں دو دن، 21 مارچ اور 23 ستمبر ، جو اعتدال ربیعی و خریفی (Equinox) کے نام سے معروف ہیں، ایسے ہیں جب سورج عین مشرق سے طلوع ہوتا ہے، یعنی خط استوا پر سفر کرتا ہے، باقی تمام دنوں میں عین مشرق سے قدرے شامل یا قدرے جنوب کی طرف ہٹ کر طلوع ہوتا ہے۔ موسم گرما کے دوران میں 22 جون کو سورج مشرق کی ایک انتہا سے نکلتا ہے ( خط سرطان پرسفر کرتا ہے ) تو موسم سرما میں بھی ایک خاص دن، یعنی 22 دسمبر کو سورج مشرق کی دوسری انتہا سے نکلتا ہے۔ ( خط جدی پر سفر کرتا ہے )۔ اس طرح سورج موسم گرما میں ( 22 جون ) اور موسم سرما میں ( 22 دسمبر ) کو مغرب میں دو مختلف انتہاؤں پر غروب ہوتا ہے۔
حاشیہ:
زمین خط استوا کا عرض بلد صفر ہے جو زمین کو دو برابر نسٖ کروں میں تقسیم کرتا ہے۔ خط استوا کے شمال میں خط سرطان کا عرض بلد 23.5 درجے شمالی ہے اور خط استوا کے جنوب میں خط جدی کا عرض بلد 23.5 درجے جنوبی ہے، سورج بظاہر انہی دو عرض بلاد کے درمیان نظر آتا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ زمین کی محوری گردش ( لٹو کی طرح مغرب سے مشرق کو گھومنے) کے دوران میں سال کے مختلف اوقات میں اس مختلف مقامات سورج کے براہ راست سامنے آتے ہیں۔ سال میں دو بار 21 مارچ اور 23 ستمبر کو سورج خط استوا پر عموداً جمکتا ہے ( بظاہر خط استوا پر سفر کرتا نظر آتا ہے ) جبکہ 22 جون کو سورج کی شعاعیں خط سرطان پر عموداً پڑتی ہیں اور 22 دسمبر کو سورج خط جدی پر عموداً چمکتا ہے ( محسن فارانی))۔ فطرت کا یہ مظاہرہ کسی بھی شہر میں رہنے والے لوگ بآسانی دیکھ سکتے ہیں یا کسی بلند و بالا عمارت سے سورج کے اس طلوع و غروب کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ نظارہ کرنے والے لوگ دیکھیں گے کہ سورج گرمیوں میں 22 جون کو مشرق کی ایک انتہا سے نکلتا ہے تو سردوں میں 22 دسمبر کو ایک دوسری انتہا سے ، مختصر یہ کہ سارا سال سورج مشرق کے مختلف مقامات سے نکلتا ہے اور مغرب کے مختلف مقامات پر غروب ہوتا رہتا ہے۔
لہذا جب قرآن اللہ کا ذکر دو مشرقوں اور دو مغربوں کے رب کے طور پر کرتا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی مشرق و مغرب دوں کی دونوں انتہاؤں کا رب اور مالک ہے۔
تمام نقاطِ و مقامات کا مالک اللہ ہے :
اللہ تعالی مشرق و مٖغرب کے تمام نقاطِ و مقامات کا مالک ہے، عربی میں جمع کے صیغے کی دو اقسام ہیں۔ ایک جمع تثنیہ ہے، یعنی دو کی جمع اور دوسری قسم وہ ہے جس میں دو سے زیادہ کی جمع مراد ہوتی ہے۔ سورۃ رحمن کی 17 ویں آیت میں مشرقین اور مغربین کے الفاظ استعمال کیئے گئے ہیں جن کا صیغہ جمع تثنیہ ہے اور ان سے مراد دو مشرق اور مغرب ہیں۔ قرآن کریم کی حسب ذیل آیت دیکھیئے۔
فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ (٤٠)
" پس میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی "
(سورۃ المعارج 70 آیت 40)
اس میں مشرق اور مغرب کی جمع کے لیئے مشارق اور مغارب کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو کہ جمع کے صیغے ہیں اور دو سے زیادہ کی تعداد کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ذکر مشرق اور مغرب کے تمام مقامات کا مالک ہونے کے علاوہ مشرق و مغرب کے دو انتہائی مقامات کے رب اور 
مالک کے طور پر بھی کیا گیا ہے۔

aitraaz : allah ne kafiro per muhr laga di ?


اعتراضات کے جوابات۔ اعتراض 8.
کفار کے دلون پر مہر لگنے کے بعد وہ قصور وار کیوں؟
" اگر اللہ نے کافروں، یعنی غیر مسلموں کے دلوں پر مہر لگا دی ہے تو پھر انہیں اسلام قبول نہ کرنے کا قصور وار کیسے ٹہرایا جاسکتا ہے؟
اللہ تعالی سورہ بقرہ کی آیت نمبر 6 اور 7 میں فرماتا ہے:
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (٦)خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (٧)
" بے شک جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے یکساں ہے، خواہ آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کیرں، بہرحال وہ ایمان لانے والے نہیں، اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے۔ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ "
(سورۃ البقرہ 2 آیات 6 ا تا 7)
یہ آیات عام کفار کی طرف اشارہ نہیں کرتیں جو ایمان نہیں لائے۔ قرآن کریم میں ان کے لیئے (إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا ) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، یعنی وہ لوگ جو حق کو رد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ نبئ کریم (ﷺ) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا۔ کہ
" تم خبردار کرو یا نہ کرو، یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ اللہ عالی نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اس لیے وہ سمجھتے ہیں نہ ایمان لاتے ہیں، بلکہ معاملہ برعکس ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کفار بہرصورت حق کو مسترد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور آپ انہیں تنبیہ کریں یا نہ کریں، وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ اي لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئ ہے اور آنکھوں پر پردہ ہے۔ لہذا اس کا ذمہ دار اللہ نہیں بلکہ کفار خود ہیں۔
حاشیہ:
اللہ تعالٰی کی طرف گمراہ کرنے یا کی نسبت اس لیے درست نہیں کہ اللہ تعالی نے انبیاء و رسل بھیج کر اور آسمانوں سے کتابیں نازل فرما کر انسانوں کے لیے راہِ حق واضح کردی۔ اب جنہوں نے حق قبول کیا وہ ہدایت یافتہ اور کامیاب ٹھہرے اور جنہوں نے حق سے منہ موڑا اور انبیاء و رسل کو ستایا، اللہ نے انہیں گمراہی میں پڑا رہنے دیا اور حق کی توفیق نہ دی۔
ایک مثال سے وضاحت :
فرض کیجیئے ایک تجربہ کار استاد آخری ( فائنل ) امتحانات سے قبل یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ فلاں طالب علم امتحان میں فیل ہوجائے گا، اس لیے کہ وہ بہت شریر ہے، سبق پر توجہ نہیں دیتا اور اپنے ہوم ورک بھی کرکے نہیں لاتا۔ اب اگر وہ امتحان میں ناکام رہتا ہے تو اس کا قصور وار کسے ٹھہرایا جائےگا۔ استاد کو یا طالب علم کو؟ استاد کو صرف اس وجہ سے کہ استاد نے پیشگوئی کردی تھی۔ اس لیے اسے طالب علم کی ناکامی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح اللہ تعالی کو یہ بھی پیشگی علم ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنھوں نے حق کو ٹھکرانے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مہر لگا دی تھی اس لئے انہوں نے نافرمانی کی راہ اختیار کی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دوسرا راستہ اختیار کر لیا تو اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی۔ اس سلسلے میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ اللہ نے انسان کو نیکی و بدی کا امتیاز بخشا ہے اور ساتھ ہی اس کو اختیار دیا ہے کہ چاہے وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے چاہے بدی کا۔ اگر وہ نیکی اور بھلائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو نیکی کی راہ میں ترقی کی توفیق ملتی ہے اور اگر وہ بدی کے راستے پر چل پڑتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس کا دل برائی کا رنگ پکڑنا شروع کرتا ہے یہاں تک کہ یہ رنگ اس پر اس قدر غالب ہو جاتا ہے کہ پھر اس کے اندر نیکی کی رمق باقی ہی نہیں رہتی۔ یہی مقام ہے جہاں پہنچ کر اللہ کے قانون کے تحت آدمی کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ اور کیونکہ مہر لگانے کا قانون اللہ ہی کا بنایا ہوا ہے اس لئے اس قانون کے تحت مہر لگنے کو اللہ نے اپنی طرف منسوب کیا ہے
مہر کیسے کافروں کو لگتی ہے؟
اللہ تعالیٰ مہر صرف ان کافروں کے دلوں پر لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو خوب سمجھ لینے کے بعد محض اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ جیسے ایک مقام پر فرمایا :
آیت (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا
ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ 14۝ۧ) 27-النمل:14) 
اور ان لوگوں نے ہٹ دھرمی اور تکبر کی بنا پر (ان حقائق کا) انکار کر دیا جن پر ان کے دل یقین کر چکے تھے
پھر کیا تم نے کبھی اُس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اُسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟
سورة الجاثية
اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟ (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے
سورة الأعراف
یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے
سورة المنافقون
اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جائے اور وہ اُن سے منہ پھیرے اور اُس برے انجام کو بھول جائے جس کا سر و سامان اس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟ (جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے، اور اُن کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کر دی ہے تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلاؤ، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے
سورة الكهف
اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے اِسی طرح اللہ ہر متکر و جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے
سورة غافر﴿٣٥﴾
مہرکیوں اور کب لگتی ہے؟
انسان کو اللہ تعالیٰ نے آنکھیں، کان اور دل اس لیے نہیں دیئے تھے کہ وہ ان اعضاء سے صرف اتنا ہی کام لے جتنا دوسرے حیوان لیتے ہیں اور جانوروں کی طرح صرف اپنے کھانے پینے اور دنیاوی مفادات پر ہی نظر رکھے۔ کیونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے فہم و دانش کی دوسرے جانوروں سے بہت زیادہ قوتیں عطا فرمائی ہیں۔
انسان کی ہدایت کےلئے اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں نازل فرمائیں جو انسان کی توجہ کو کائنات میں ہر سو اللہ تعالیٰ کی بکھری ہوئی نشانیوں کی طرف مبذول کرتی ہیں۔ تاکہ انسان ان سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرے۔ پھر اگر انسان کانوں سے قرآن کی آیات کو سننا تک گوارا نہ کرے اور کائنات میں بکھری ہوئی آیات کو آنکھوں سے دیکھنے کی بھی زحمت گوارا نہ کرے تو اس کی ہدایت کی کوئی صورت باقی رہ جاتی ہے؟
اس سے بھی بدتر صورت حال ..............
ان لوگوں کی ہے جو اللہ کی آیات سن بھی لیتے ہیں اور ان کے دل انہیں سمجھ بھی لیتے ہیں، لیکن وہ اپنی چودھراہٹوں یا بعض دوسرے دنیوی مفادات کی خاطر حق کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے، بلکہ الٹا مخالفت اور تعصب پر اتر آتے ہیں تو ایسے لوگوں کی آئندہ ہدایت پانے کی بھی کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی اور اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے دلوں اور کانوں پر مہر لگانے اور آنکھوں پر پردہ ڈالنے سے تعبیر فرمایا ہے اور اسی بات کی تائید درج ذیل مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے۔ پھر اگر وہ گناہ چھوڑ دے اور استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے اور اگر دوبارہ کرے تو نقطہ بڑھ جاتا ہے حتیٰ کہ دل پر چھا جاتا ہے اور یہی وہ زنگ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آیت (كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 14؀) 83-المطففين:14)
(ترمذی، ابو اب التفسیر)
______________________
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دلوں پر فتنے اس طرح پیش ہوتے ہیں جیسے ٹوٹے ہوئے بورے کا ایک ایک تنکا جو دل انہیں قبول کر لیتا ہے اس میں ایک سیاہ نکتہ ہو جاتا ہے اور جس دل میں یہ فتنے اثر نہیں کرتے، اس میں ایک سفید نکتہ ہو جاتا ہے جس کی سفیدی بڑھتے بڑھتے بالکل صاف سفید ہو کر سارے دل کو منور کر دیتی ہے۔ پھر اسے کبھی کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچا سکتا اسی طرح دوسرے دل کی سیاہی (جو حق قبول نہیں کرتا) پھیلتی جاتی ہے یہاں تک کہ سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ اب وہ الٹے کوزے کی طرح ہو جاتا ہے۔ نہ اچھی بات اسے اچھی لگتی ہے نہ برائی بری معلوم ہوتی ہے۔
_______________________
مہر لگانے کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کیوں؟ ...
اگر کافروں کے دلوں اور کانوں پر مہر ان کی اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے لگتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کیوں کیا ....
جواب یہ ہے
کہ یہ بھی اللہ ہی کا قانون ہے کہ جن اعضاء یا جن قویٰ سے انسان کام لینا چھوڑ دیتا ہے یا ان کی فراہم کردہ معلومات کو پس پشت ڈال دیتا ہے تو ان اعضاء اور قویٰ کی استعداد از خود زوال پذیر ہو کر ختم ہو جاتی ہے۔ مثلاً انسان اگر اپنے بازو سے کچھ مدت کوئی کام نہ لے اور اسے حرکت تک نہ دے تو وہ از خود شل ہو جائے گا، اس میں حرکت کرنے کی استعداد باقی ہی نہیں رہے گی اور یہ قانون بھی چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کا بنایا ہوا ہے۔ لہٰذا اس فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف درست ہوئی۔ اگرچہ یہ انسان کے اپنے ہی شامت اعمال کے نتیجہ میں واقع ہوتی ہے۔
۔ ایک جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ) 61۔ الصف:5)
یعنی جب وہ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دئیے
(وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ) 6۔ الانعام:110)
ہم ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیتے ہیں گویا کہ وہ سرے سے ایمان ہی نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

Wednesday, September 28, 2016

QURAN ME HUROOF MAQTAAT KI TARTEEB JISKI WAJA SE MASHHUR SHAIHIR HAZRAT LUBAID BIN RABIH AAMRI NE ISLAM QABUL KIYA




یہ پوسٹ صاحب علم حضرات کے لیے ہے۔
حضرت لبید ؓ بن ربیعہ عامری کا شمار جاہلی عرب کے ان شعراء میں ہوتا ہے جو عزت اور شہرت کے آسمان پر آفتاب بن کر چمکے اور دنیا نے جنہیں امراء القیس، نابغہ ذبیانی، زہیر بن ابی سلمیٰ، عمرو بن کلثوم، اعشیٰ بن قیس اور طرفہ بن العبد جیسے نامور شعراء کی صف کا شاعر تسلیم کیا۔
ابو عقیل لبید بن ربیعہ ان سات شعراء (اصحاب المعلقات یا المذّہبات) میں سے ایک تھے جن کے قصائد زمانۂ جاہلیت میں اہلِ مکہ نے کعبہ میں آویزاں کررکھے تھے
ان کو اوائل عمر ہی سے شعر و شاعری سے لگائو تھا۔ عہدِ شباب میں ایک دفعہ اپنے چچائوں کے ساتھ نعمان ابوقابوس کے دربار میں گئے تو وہاں عظیم جاہلی شاعر نابغہ ذبیانی سے ملاقات ہوگئی۔ اس نے ان کا کلام سن کر بہت داد دی اور کہا کہ تم بنی عامر اور بنو قیس کے تمام شاعروں سے بڑھ گئے۔ اس کے بعد وہ رفتہ رفتہ جاہلی عرب کے شعراء کی صفِ اوّل میں آگئے اور تمام عالمِ عرب میں ان کی شہرت پھیل گئی۔ .
زمانۂ جاہلیت میں لبید اکثر مکے آتے جاتے رہتے تھے۔ اپنے شاعرانہ کمالات کی بدولت وہ قریش کے نزدیک بڑی قدرومنزلت کے حامل تھے۔ ابن اثیر کا بیان ہے کہ 5 بعدِ بعثت میں ایک دفعہ وہ مکہ آئے تو اہلِ مکہ نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ وہ اُس وقت تک شرفِ اسلام سے بہرہ ور نہیں ہوئے تھے اس لیے حسبِ سابق قریش کی محافلِ شعر و سخن کو گرمانے لگے۔ ایک دن ایسی ہی ایک محفل میں اپنا قصیدہ سنا رہے تھے، جب یہ مصرع پڑھا: الاکل شیًٔ ماخلا اللہ باطِل (خبردار رہو کہ اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے) تو جلیل القدر صحابی حضرت عثمان بن مظعون، جو اس مجلس میں موجود تھے، بے اختیار پکار اٹھے: ’’تم نے سچ کہا۔‘‘ لیکن جب انہوں نے دوسرا مصرع پڑھا: وکل نعیمٍ لامحالۃ زائلٌ (اور ہر نعمت لامحالہ زائل ہونے والی ہے) تو حضرت عثمان بن مظعون بول اٹھے: ’’یہ غلط ہے، جنت کی نعمتیں ابدی ہیں اور کبھی زائل نہ ہوں گی۔‘‘ اس پر سارے مجمع میں شور مچ گیا، لوگ حضرت عثمان بن مظعون کو برا بھلا کہنے لگے اور لبید سے یہ شعر دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کی۔ انہوں نے اس شعر کی تکرار کی تو حضرت عثمان نے بھی اپنے الفاظ کا اعادہ کیا۔ اس پر لبید سخت برافروختہ ہوئے اور قریش سے مخاطب ہوکر کہنے لگے: ’’اے برادرانِ قریش، خدا کی قسم پہلے تمہاری مجلسوں کی یہ کیفیت نہ تھی، نہ ان میں بیٹھنا کسی کے لیے باعثِ ننگ و عار تھا اور نہ کبھی بدتمیزی نے ان میں راہ پائی تھی۔ اگر یہ شخص مجھے اسی طرح ٹوکتا رہا تو میں اپنا کلام سنا چکا۔‘‘ لبید کی باتیں سن کر مشرکین بھڑک اٹھے اور انہوں نے حضرت عثمان بن مظعون کو برا بھلا کہنے پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ ان پر ہاتھ اٹھانے سے بھی دریغ نہ کیا۔
۔ اکثر ارباب سِیَر نے لکھا ہے کہ ایمان لانے کے بعد حضرت لبید نے شاعری ترک کردی اور تادم ِمرگ ایک یا دو کے سوا کوئی شعر نہیں کہا، فرمایا کرتے تھے کہ اللہ نے مجھے شعر کے عوض سورۂ بقرہ اور آلِ عمران دی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروق نے اپنے عہدِ خلافت میں ایک مرتبہ حضرت لبید سے پوچھ بھیجا کہ آپ نے زمانۂ اسلام میں کون سے اشعار کہے۔ جب انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ شعر کے عوض مجھے اللہ نے بقرہ اور آلِ عمران دی ہیں
ابن قتیبہ نے ان کے سلیم الفطرت ہونے کے ثبوت میں یہ شعر پیش کیا ہے جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں کہا تھا وکل امری یومًا سیعلم سعیہ اذا کشفٍ عندالا لہ المحاصل (اور ہر انسان کو اپنی کوششوں کا نتیجہ اُس وقت معلوم ہو گا جب اس کے نتائج اللہ کے سامنے ظاہر ہوں گے) عرب کے فحول شعراء میں حضرت لبید بن ربیعہ کا مرتبہ اتنا بلند تھا کہ ایک دفعہ عرب کا نامور شاعر فرزوق ان کا یہ شعر سن کر بے اختیار سجدے میں گر گیا: رجلا السیول عن الطول کانھا زبر تجد متونھا اقلامھا (اور سیلاب نے ٹیلوں کو اس طرح مجلّیٰ کردیا گویا وہ کتاب کے صفحات ہیں جن کے متن کو قلم نے درست کیا) لوگوں نے فرزوق سے پوچھا: ’’یہ کیسا سجدہ ہے؟‘‘ کہنے لگا: ’’یہ سجدۂ شعر ہے، جس طرح لوگ قرآن کے مقاماتِ سجدہ کو جانتے ہیں، میں شاعری کے مقامِ سجدہ کو پہچانتا ہوں
لبید کے قبول اسلام کے تعلق سے بڑے بڑے دعوے پائے جاتے ہیں اور اسے قرآن کی فصاحت و بلاغت کے علاوہ کلام الٰہی ہونے کے ایک ثبوت کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ جان ڈیون پورٹ کے مطابق لبید نے قرآن کی کچھ آیات کو کعبہ پر آویزاں دیکھا اور شرما کر اپنے قصیدے کو اتار لے گئے اور مسلمان ہوگئے۔ خلیفہ محمد حسن کہتے ہیں کہ‘‘ یہی وجہ تھی لبید جیسا صاحب طرز شاعر بے اختیار بول اٹھا کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہے اور فوراً مسلمان ہوگیا کیوں کہ بہ سبب اس کمال واقفیت اور مہارت کے جو فن فصاحت و بلاغت میں اسے حاصل تھی، وہ اس بات کو جانچنے کی قابلیت رکھتا تھا کہ انسان ایسا کلام کرسکتا ہے یا نہیں ۔’’(اعجاز التنزیل، صفحہ 503
حضرت لبید رض کے بارے میں مشہور ہے کہ حروف مقطعات ہی آپ کے قبول اسلام کی وجہ بنی
29 سورتوں میں 14 حروف مقطعات کا ذکر ھے ان چودہ حروف میں تمام اقسام کے حروف کی آدھی قسمیں ذکر ہیں
یہاں پہ چند اقسام کا ذکر ہے تاکہ حروف مقطعات کی اعجاز بیانی کو سمجھا جا سکے
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
صفات کے اعتبار سے حروف کی اقسام
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
مھموسۃ
وہ حروف جن کی ادائیگی کے وقت سانس نہ رُکتی ہو بلکہ ادائیگی بھی ہوتی رہے اور سانس بھی چلتی رہے
حروف مھموسۃ کل دس ہیں
ف ، ح ، ث ، ہ ، ش ، خ ، ص ، س ، ک ، ت
حروف مھموسہ میں سے جن پانچ حروف کو لیا گیا
(ح،ھ ، ص ، س ، ک ،)
کٓھٰیٰعٓصٓ
حم
طٰس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجہورہ
وہ حروف جن کی ادائیگی کے وقت سانس رک جاتی ہو
حروف مجہورہ کل 18 ہیں
ا ، ب ، ج ، د ، ذ ، ر ، ز ، ض ، ط ، ظ ، ع ، غ ، ق ، ل ، م ، ن ، و ، ی
حروف مجہورہ سے 9 حروف کو مقطعات میں لیا گیا ہے
(
ل ، ی، ق ، ط ، ع ، ا ، م ، ر ، ن )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شدیدہ
وہ حروف جن کے ادا کرتے وقت آواز ان کے مخرج میں ایسی قوت کے ساتھ ٹھہرے کہ آواز بند ہو جائے
حروف شدیدہ آٹھ ہیں جن کا مجموعہ
اَجِدُک قَطبَت
ان میں سے مقطعات میں چار حروف کا ذکر ہے
جن کا مجموعہ ،اَقطک ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رخوہ
وہ حروف جن کے ادا کرتے وقت آواز ان کے مخرج میں ایسے ضعیف کےساتھ ٹھہرے کہ آواز جاری رہے شدیدہ کے علاوہ باقی 20 حروف رخوہ ہیں
جن میں سے 10 کا مقطعات میں ذکر ھے
جن کا مجموعہ ،، حمس علی نصرہ ،، ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مطبقہ
وہ حروف جن کے ادا کرتے وقت زبان کا بیچ اوپر کے تالو سے ملصق ہو جاتا یے حروف مطبقہ کل چار ہیں
ص ، ض ، ط ، ظ
ان میں سے مقطعات میں 2 حروف کا زکر ہے
ص ، ط
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حروف قلقلہ
ان حروف کے حالت سکون میں ادا کے وقت مخرج کو حرکت ہو جاتی ہے
حروف قلقہ پانچ جن کا مجموعہ ،، قطب جد ،، ہے
ان میں نصف اقل یعنی 2 کا زکر مقطعات میں ذکر ہے
ط ، ق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حروف لین
ایسے حروف جن کو مخرج سے ایسی نرمی کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی ان پر مد کرنا چاہے تو کر سکے حروف لین دو ہیں
و ی
ان میں سے ی کا مقطعات میں ذکر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مستعلیہ
وہ حروف جن کے ادا کرتے وقت جڑ زبان کی اوپر کےتالو کی طرف اُٹھ جاتی ہے حروف مستعلیہ کل سات ہیں جن کا مجموعہ ،، خص ضغط قظ ،، ہے
ان میں سے نصف اقل یعنی
تین کو لیا گیا ہے
ص ، ط ، ق

 ممتاز علی